چینائی 11/ستمبر(ایس او نیوز) حکومت تمل ناڈو 15 ستمبر کو تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلی انّا کے یوم پیدائش کے موقع پر عمر قید کے قیدیوں کو رحم کی بنیاد پر رہا کرتی ہے۔ لہذا حکومت کو چاہئے کہ وہ دیگر قیدیوں کی طرح مسلم قیدیوں کو بھی بغیر کسی امتیاز کے رہا کرے اور اس سے متعلق کابینہ کی قرارداد منظور کرے۔ اس مطالبے کو لیکر ایس ڈی پی آئی تمل ناڈو کی جانب سے گزشتہ 9ستمبر 2023کو تمل ناڈو اسمبلی کی طرف ہزاروں افراد کے ساتھ ایک ریلی نکالی گئی۔
پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی نے خبرد ی ہے کہ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر نیلائی مبارک کی قیادت میں نکالی گئی اس ریلی میں نیلا مبارک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”مسلم عمر قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کئی سالوں سے کیا جارہا ہے۔ تمل ناڈو میں پچھلے کئی سالوں سے لیڈروں کی سالگرہ کے موقع پر اچھے سلوک اور معافی کی بنیاد پر عمر قید کے مخصوص سال گزارنے والے قیدیوں کو رہا کرنے کا رواج ہے۔ لیکن چونکہ حکومتیں بدلنے کے بعد بھی مناظر نہیں بدلے ہیں، صرف مسلم عمر قیدیوں کی رہائی کو یکے بعد دیگرے حکمرانوں نے مسترد کیا ہے۔ حکومت کے رحم و کرم میں صرف مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔تمل ناڈو کی مختلف جیلوں میں اس وقت 37 مسلمان قیدی ہیں جنہوں نے 14 سال اور 28 سال تک جیلوں میں گزارے ہیں اور وہ اپنی رہائی کے منتظر ہیں۔ سپریم کورٹ کے رہنما خطوط اور آئین کے آرٹیکل 161 کے تحت مسلم قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکتی ہے لیکن مسلم عمر قیدیوں کے پاس حکومت کی طرف سے مقرر کردہ تمام جواز ہونے کے باوجود ہر بار ان کو رہائی دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔
اس تناظر میں، ایس ڈی بی آئی سمیت ریاست کی مختلف تنظیموں نے تمل ناڈو حکومت پر زور دیا ہے کہ امسال 15 ستمبر2023 کو انا کی سالگرہ کے موقع پر مسلم عمر قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے۔ اس معاملے میں غیر سرکاری خبریں گردش کررہی ہیں کہ تمل ناڈو حکومت نے گورنر کو مسلم قیدیوں سمیت 49 قیدیوں کو رہا کرنے کی سفارش بھیجی ہے۔ اگرچہ تمل ناڈو حکومت کی یہ سفارش خوش آئند ہے لیکن تمل ناڈو حکومت کو قیدیوں کی رہائی کا معاملہ گورنر کے حوالے کرکے خاموش نہیں بیٹھ جانا چاہئے۔
تمل ناڈو کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ تمل ناڈو گورنر کیسے ہیں اور تمل ناڈو کی حکومت عوام سے بہتر گورنر کوجانتی ہے۔ پہلے ہی، جہاں گورنر ہاؤس تمل ناڈو حکومت کی مختلف فائلوں کو منظوری دیے بغیر فائلوں سے بھرا پڑا ہے، وہیں جیل کے قیدیوں کی سفارش کی فائل بھی گورنر ہاؤس پہنچ چکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمر قید کے قیدیوں کو مزید کتنے سال گورنر کی منظوری کا انتظار کرنا پڑے گا؟۔ لہٰذا حکومت تمل ناڈو، مسلم عمر قید کے قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر کابینہ کی قرارداد منظور کرے اور رہائی کے عمل کو تیز کرے۔ کیونکہ صرف کابینہ کی قرارداد ہی ایک قطعی قانونی عمل ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے بارہا کہا ہے کہ کابینہ کو قیدیوں کی رہائی سے متعلق قرارداد پاس کرنے کا حق ہے اور گورنر کو اس قرارداد کی بنیاد پر فیصلہ لینا چاہیے۔ پیراریوالن سمیت 7 تملوں کو صرف کابینہ کے فیصلے کی وجہ سے رہا کیا گیا تھا۔ اس لیے تمل ناڈو حکومت کو چاہیے کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے مسلم عمر قید قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کابینہ کی قرارداد منظور کرے اور انھیں جلد رہا کرے۔
ایس ڈی پی آئی کے لیڈران اے ایس عمر فاروق، نظام محی الدین، ریاستی آرگنائزنگ جنرل سکریٹری نصیرالدین، ریاستی سکریٹریان اے کے کریم، رتھنم، ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین ذوالفقار علی، شفیق احمد، بشیر سلطان، مجیب خان ، رحمان، فیاض احمد، تاجر یونین کے ریاستی صدر گنڈی انصاری، ایس ڈی ٹی یو(SDTU) کے ریاستی صدر آزاد اور چنئی زون کے ضلعی صدور اور جنرل سکریٹریان ریلی میں شریک تھے۔
ریلی میں مئی 17موومنٹ کے چیف کوآرڈینیٹر تھرومروگن گاندھی، ایم ڈی ایم کے ریسرچ سنٹر کے سکریٹری آوڈی اندری داس، وی سی کے اسٹیٹ پالیسی پراپیگیشن سکریٹری سی بی چندر، تمل نیشنل لبریشن موومنٹ کے جنرل سکریٹری تھیاگو، سینئر ایڈوکیٹ پی اے موہن، تمل ناڈو وازارومائی پارٹی کے ریاستی ترجمان ماری متھو بھی خصوصی مدعو ین کے طور پر شریک تھے جنہوں نے ریلی سے خطاب بھی کیا۔اس سے پہلے ایس ڈی پی آئی کے اسمبلی مارچ کو پولیس نے راستے میں ہی روک دیا تھا، جس کی بناء پر مقررین نے اسی جگہ پر احتجاجیوں کے سامنے خطاب کرتے ہوئے عمر قید کے مسلم قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔